چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ – ایک تاریخی حقیقت
اسلامی تاریخ میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ ایک بہت بڑا معجزہ سمجھا جاتا ہے جو نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ظاہر ہوا۔ یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں اس وقت پیش آیا جب قریش کے کفار نے نبی کریم ﷺ سے کوئی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے ذریعے چاند کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ واقعہ قرآن مجید، احادیث اور کئی تاریخی روایات میں مذکور ہے۔
قرآن میں ذکر
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس معجزے کا ذکر سورۃ القمر میں کیا:
ٱقْتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ ١
وَإِن يَرَوْا۟ ءَايَةًۭ يُعْرِضُوا۟ وَيَقُولُوا۟ سِحْرٌۭ مُّسْتَمِرٌّۭ ٢
ترجمہ:
"قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور اگر یہ کوئی نشانی دیکھیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو مسلسل جادو ہے۔"
(سورۃ القمر 54:1-2)
واقعہ کی تفصیل
قریش کے کفار نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ طلب کیا تاکہ آپ کی نبوت کی سچائی کو جانچ سکیں۔
اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، اور چاند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
دونوں حصے مکہ کے پہاڑوں کے درمیان نظر آئے، گویا وہ زمین سے الگ ہو گئے ہوں۔
کچھ لوگوں نے یہ منظر صفا اور مروہ کے پہاڑوں کے درمیان بھی دیکھا۔
کفار نے اس معجزے کو جادو کہہ کر رد کر دیا اور ایمان لانے سے انکار کر دیا۔
حدیث کی روشنی میں
یہ معجزہ مختلف احادیث میں ذکر کیا گیا ہے:
1. حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:
“ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ موجود تھے کہ چاند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، اور نبی ﷺ نے فرمایا: ‘گواہ رہو!’”
(صحیح بخاری 4864، صحیح مسلم 2800)
2. حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں:
“اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ طلب کیا، تو چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔”
(صحیح بخاری 3636، صحیح مسلم 2802)
کفار کی ضد اور انکار
جب قریش نے معجزہ دیکھا تو کچھ لوگ ایمان لے آئے، مگر اکثر نے کہا کہ یہ جادو ہے۔
کفار نے کہا: "اگر یہ سچ ہے تو دوسرے علاقوں میں بھی اس کا مشاہدہ ہوا ہوگا۔"
جب باہر سے آنے والے مسافروں نے بھی یہی گواہی دی کہ انہوں نے چاند کو دو حصوں میں دیکھا، تب بھی کفار نے ہدایت قبول نہیں کی۔
سائنسی نقطہ نظر
چاند کی سطح پر بڑی دراڑیں (Lunar Rilles) پائی جاتی ہیں، جنہیں کچھ لوگ اس واقعے سے جوڑتے ہیں۔
ناسا کے مطابق چاند کی سطح پر ایسے نشانات موجود ہیں جو اس کے ماضی میں ممکنہ دراڑوں یا جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
لیکن جدید سائنس میں اس معجزے کی کوئی براہ راست تصدیق موجود نہیں۔
اس واقعہ سے ملنے والے اسباق
1. معجزے کو دیکھ کر بھی ہدایت وہی قبول کرتا ہے جس کے دل میں طلب ہو۔
2. کفار نے معجزہ دیکھ کر بھی انکار کیا، جس سے ان کی ضد اور تکبر ظاہر ہوا۔
3. یہ معجزہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی سچائی کا ثبوت ہے۔
4. قرآن قیامت کے قریب آنے کی ایک نشانی کے طور پر اس واقعے کو بیان کرتا ہے۔
نتیجہ
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ ایک ناقابلِ تردید معجزہ ہے جسے قرآن، حدیث اور تاریخی روایات میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ایک اہم نشانی تھی، لیکن کفار نے اپنی ضد کی وجہ سے اسے جادو قرار دیا۔ آج بھی یہ واقعہ ایمان والوں کے لیے اللہ کی قدرت کا مظہر اور نبی کریم ﷺ کی سچائی کی دلیل ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں